سوال:

میں اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہوں کہ “کلمہ”کا قرآن و سنت سے کیا ثبوت ہے؟اس کلمہ کے دو حصے ہیں ۔طاہر القادری کا ایک مرید کہتا ہےکہ اس کلمہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس لیے لوگوں کو شیعوں پر کوئی الزام عائد نہیں کرنا چاہیےجو کلمہ میں تبدیلی کرتے ہیں (یعنی اس کے پانچ حصے بناتے ہیں)اگر مناسب سمجھیں تو ڈاک کا پتہ بھی بھیج دیں بذریعہ ڈاک رابطہ کر لوں گا۔

محمد لقمان

الجواب:

[۱]: کلمہ طیبہ کا ثبوت احادیث مبارکہ سے ملتا ہے۔ چند احادیث یہ ہیں:

(۱):عن عبد الرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ: ان البنی صلی اللہ علیہ و سلم ضحی بکبشین املحین ذبح احدہما عن نفسہ و الآخر عمن قال لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ.

کتاب الآثار للامام ابی حنیفۃ بروایت محمد ،رقم الحدیث 790

ترجمہ: حضرت عبد الرحمٰن بن سابط رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دو موٹے تازے دنبے ذبح کیے، ایک اپنی جانب سے اور ایک ہر اس شخص کی طرف سے جس نے ”لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ“ کہا ہو۔

(۲):سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا فَقَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ، وَقَالَ تَعَالَى : إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ، وَهِيَ لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَوْمَ كَاتَبَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ.

الأسماء والصفات ج 1 ص263

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب جب متکبر قوم کا ذکر کیا تو یہ ارشاد فرمایا: ” إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ “ (کہ جب ان لوگوں کو لاالہ الااللہ کی دعوت دی جاتی ہے تویہ لوگ تکبر کرنے لگ جاتے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا: ”إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا“ (کہ جب کفرکرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی تواللہ نے اپنا سکون واطمینان اپنے رسول اورمؤمنوں پراتارااوران کے لئے کلمۃ التقویٰ کولازم قراردیا اوراس کے زیادہ مستحق اوراہل تھے) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ ”کلمۃ التقوی“ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ ہے، یہی وہ کلمہ ہے کہ حدیبیہ والے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت مقرر کر نے والے فیصلے میں مشرکین سے معاہدہ کیا تھا تو مشرکین نے اسی کلمہ سے (اعراض کر کے غرور و) تکبرکیاتھا۔

(۳):عن ابن عباس ، أن النبي صلى الله عليه وسلم حدثه قال : « من خالف دين الله من المسلمين فاقتلوه ، ومن قال : لا إله إلا الله ، محمد رسول الله ، فلا سبيل لأحد عليه ، إلا من أصاب حدا ، فإنه يقام عليه »

طبقات المحدثين بأصبهان لأبي الشيخ الأصبهاني ج2 ص292

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس شخص نے مسلمانوں کے دین کی مخالفت کی اس کو قتل کر دو، اور جس نے ”لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ“ کہا تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ اسے کچھ کہہ سکے، ہاں اگر اس کلمہ گو شخص سے کوئی ایسا کام سرزد ہو جائے جس کی وجہ سے حد لازم آتی ہو تو اور بات ہے، اس صورت میں اس پر حد لگائی جائے گی۔

[۲]: مذکورہ احادیث سے کلمہ کا ثبوت واضح ہوا۔ اس لیے طاہر القادری صاحب کے مرید کا یہ کہنا کہ ”اس کلمہ کا کوئی ثبوت نہیں“ غلط ہے۔

[۳]: جب کلمہ ثابت ہے تو شیعہ حضرات کا اس میں تبدیلی کرنا غلط ہے۔

[۴]: ڈاک کا پتا یہ ہے: شعبہ تحقیق و تصنیف ، مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ، 87 جنوبی لاہور روڈ سرگودھا۔

واللہ اعلم بالصواب۔

کتبہ:ابو محمد شبیر احمد حنفی