سوال:

کیا ہم ہندو کو نمستے کر سکتے ہیں؟ اور اگر وہ نمستے کرے تو ہمیں کیا جواب دینا چاہیے؟

جاوید خان

جواب:

ہندو کو نمشکار یا نمستے کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ مخصوص مذہبی الفاظ ہیں گویا یہ ہندوں کا مذہبی شعار ہے اور کسی غیر مسلم کے شعار کو اپنانے کی ہرگزاجازت نہیں ہوتی اس لئے کہ حدیث پاک میں آتا ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ».

سنن أبي داود: رقم4031،باب فی لبس الشھرۃ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہو گا۔

البتہ جو الفاظ مذہبی نہیں معاشرتی ہیں جیسے آداب،آداب عرض ہے ان جیسے الفاظ کی گنجائش ہے۔

فتاوی رحیمیہ:ج10ص126،باب الحظروالاباحۃ

اور اگر وہ نمستے کہتے ہیں تو اس کے جواب میں بھی نمستے نہیں کہنا چاہیےکیونکہ یہ کفار کا شعار ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہےہاں آداب وغیرہ معاشرتی الفاظ جواب میں کہنے کی گنجائش ہے۔

مجیب:مولانا محمد مدثر