سوال:

کیا غیر مسلم کو صدقہ واجبہ یا زکوۃ دی جا سکتی ہے؟

مدثر محمد

جواب:

غیر مسلم کو صدقات واجبہ اور زکوۃ دینا قرآن و حدیث اور فقہا ء کی تصریحات کی روشنی میں جائز نہیں اور ان کو صدقات یا زکوۃ دینے سے صدقہ اور زکوۃ ادا بھی نہیں ہوں گے :

1۔قرآن مجید کی سورۃ توبہ آیت نمبر 60 میں اللہ تبارک وتعالی نے زکوۃ اور صدقات کے مصارف کو واضح طور پر بیان کیا ہے لیکن اس میں غیر مسلم کا ذکر تک نہیں ۔

چناچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: زکوۃ کی ادئیگی کے مصارف صرف یہ 8 جو اللہ پاک نے اس آیت میں بیان فرمائے ہیں :

انما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیھا والمؤلفۃ قلوبھم وفی الرقاب والغارمین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضۃ من اللہ۔

التوبۃ:60

ترجمہ: صدقات صرف فقراء ، مساکین ،اور جو لوگ زکوۃ وصول کرنے جاتے ہیں اور مؤلفۃ القلوب کو اور غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرضداروں کو اور جہاد کرنے والوں کو اور مسافر کو بھی ادا کیے جا سکتے ہیں اور یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے ۔

2۔ اسی طرح حدیث مبارک میں بھی یہ مسئلہ واضح موجود ہے کہ زکوۃ کے مستحق صرف مسلمان ہیں نہ کہ غیر مسلم :

چناچہ حدیث کی کتابوں میں یہ روایات کثرت کے ساتھ موجود ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعث معاذٵرضی اللہ عنہ الی الیمن فقال فاعلمھم ان اللہ افترض علیھم صدقۃ فی امولھم توخذ من ٵغنیائھم وترد ولی فقرائھم ۔

ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذرضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو کئی امور بیان کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ نے ان کو یہ بھی بتانا ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کے مالوں پر صدقہ کو بھی فرض کیا ہے اے معاذ آپ نے یمن کے مالداروں سے لے کر فقیروں میں تقسیم کرنا ہے ۔

صحیح بخاری باب من انتظر حتی تدفن رقم 1395

3۔ اس کے علاوہ فقھاء کرام کی کتب میں بھی یہی ہے کہ غیر مسلم کو زکوۃ دینا جائز نہیں۔

صاحب ہدایہ علامہ علی بن ابی بکر المرغینانی فرماتے ہیں :

ولا یجوز ان یدفع الزکاۃ الی ذمی لقولہ علیہ السلام لمعاذ رضی اللہ عنہ خذھا من اغنیائھم وردھا فی فقرائھم ویدفع الیہ ما سوی ذالک من الصدقتہ

ترجمہ: صاحب ھدایہ فرماتے ہیں ذمی کو زکوۃ دینا جائز نہیں کیونکہ حضور علیہ السلام نے حضرت معاذ سے کہا تھا یمن کے مالدار مسلمانوں سے زکوۃ لے کر فقراء کو تقسیم کرنی ہے ہاں نفلی صدقات وہ غیر مسلم کو دئے جا سکتے ہیں :

الہدایہ ج ۱ کتاب الزکاۃ ص 222

کتبہ: مفتی محمد ارشد کاشمیری