سوال:

ایصالِ ثواب کے بارے میں ایک شبہ یہ ہے کہ اگر جائز تها تو رسول الله بهی اپنے اقارب اور نزدیکوں کے لیے قرآن پڑها کر بخش دیتے چونکہ پیامبر سےقرآن کا ایصال ثواب ثابت نہیں ہے اس لیے جائز نہیں ہے۔
آپ واضح فرمائیں۔

مہدی مہدوی

الجواب ومنہ الصدق والصواب:

ایصال ثواب کرنا بالکل جائز ہےخواہ قرآن کے ذریعہ ہو یا کسی دوسرے نیک عمل کی وجہ سے ہو، آپ کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ پیغمبر علیہ السلام سے ثابت نہیں ہے اس لیے کہ اس کا ثبوت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔

دلیل نمبر1: عمومِ روایات

1: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له

صحیح مسلم ج2ص41

ترجمہ:حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب انسان مر جاتاہے تو اس کاعمل منقطع ہوجاتاہے ۔مگر تین عمل صدقہ جاریہ ،علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو اور نیک اولاد جوا س کے لیے دعا کرتی ہے

2: عن أبي هريرة قال :قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره وولدا صالحا تركه . ومصحفا ورثه أو مسجدا بناه أو بيتا لابن السبيل بناه أو نهرا أجراه أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته . يلحقه من بعد موته

سنن ابن ماجہ ص22

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا : موت کے بعد مومن کو جو اعمال اور نیکیاں ملتی ہیں وہ یہ ہیں۔علم جوسیکھا پھر اس کی اشاعت کی یا نیک بیٹاچھوڑ گیا یا قرآ ن پاک وراثت میں چھوڑا یا مسجد کی تعمیر کی یامسافر خانہ بنایایا نہر کھدوائی یا وہ صدقہ جو اپنے مال سے تندرستی اور زندگی میں نکالا،ان کاثواب موت کے بعد بھی ان کو پہنچتاہے ۔

3: عن جرير بن عبد الله قال:۔۔۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها بعده كتب له مثل أجر من عمل بها ولا ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها ولا ينقص من أوزارهم شيء

صحیح مسلم ج2ص341

ترجمہ:حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے رسم ڈالی اسلام میں اچھی اس کا اس کو اجر ملے گااور جو لوگ بعد میں اس پر عمل کریں گے ان کابھی اس کو اجر ملے گااور ان کے اجرمیں کوئی کمی نہ ہو گی اور جس نے اسلام میں کوئی بد رسم جاری کی اس کو اس کا بھی گناہ ہوگا اور جتنے لوگ اس کے بعدا س بد رسم پر عمل کریں گے ان کا بھی اس کوگناہ ہوگااور ان کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی ۔

4: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

صحیح البخاری ج1ص386: صحیح مسلم ج1 ص324

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس کی والدہ اچانک فوت ہوگئی اور ا س نے کوئی وصیت نہیں کی اور میر اگمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو صدقہ کرتی اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو اس کا ثواب پہنچے گا ؟فرمایا ہاں ۔

5: عن أبي هريرة:أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن أبي مات وترك مالا ولم يوص فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه قال نعم

صحیح مسلم ج2 ص41

ترجمہ:حضر ت ابو ہریرہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا ،بے شک میرے والد فوت ہوگئے اور مال چھوڑا اور وصیت نہیں فرمائی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کوکفایت کرے گا؟ فرمایا ہاں۔

6: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَالِكَ

مسند احمد: رقم الحدیث6704

ترجمہ:حضر ت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ عاص بن وا ئل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ۔اس کے بیٹے ہشام نے باپ کی طر ف سے 55اونٹ ذبح کیے ،عمرو رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا ان کا کیا ہوگا؟فرمایا ،تیرا باپ توحید کااقرار کرتا اور تو روزہ رکھ کریا صدقہ کرکے ثواب پہنچاتا تو اس کو اس سے فا ئدہ ہوتا ۔

استدلال:

ان روایات کا حاصل یہ ہے کہ انسان کا صدقہ جاریہ، نشرِ علم کا ثواب پہنچتا ہے اور کسی کے لیے دعا کرنا، کسی کی جانب سے صدقہ کرنا وغیرہ کا ایصال ثواب بھی جائز اور ثواب کا پہنچنا بھی بر حق ہے۔ ایصال ثواب کی اصل بھی یہی ہے کہ یہ ثواب ہدیہ کرنے والی کی ملک ہوتا ہے وہ جس کو چاہے ہدیہ کر سکتا ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ مذکورہ چیزوں کا ایصال ثواب تو جائز ہو لیکن قراءتِ قرآن کا ایصال ثواب کرنا جائز نہ ہو، بلکہ عمومِ روایات کا تقاضا یہی ہے کہ قراءتِ قرآن کا ایصال ثواب جائز ہے۔ یہی موقف ان عبارات سے ظاہر ہوتا ہے۔ علامہ ابن القیم فرماتے ہیں:

وسر المسألة أن الثواب ملك العامل فإذا تبرع به وأهداه إلى أخيه المسلم أوصله الله إليه فما الذي خص من هذا ثواب قراءة القرآن وحجر على العبد أن يوصله إلى أخيه وهذا عمل سائر الناس حتى المنكرين في سائر الإعصار والأمصار من غير نكير من العلماء

کتاب الروح: فصل فان قيل فہل تشترطون فی وصول الثواب ان يہديہ بلفظہ ام يكفی

ترجمہ: اس مسئلہ کا راز یہ ہے کہ ثواب عمل کرنے والے کی ملکیت ہے۔ لہذا جب وہ اس کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے تبرع اور ہدیہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ ثواب اس کو پہنچا دیتے ہیں۔ تو وہ کون سی چیز ہے کہ قرآن مجید کی قراءت کے ثواب کو اس اصول و قاعدہ سے خاص کیا جائے اور مومن بندہ پر اس چیز کی رکاوٹ ڈالی جائے کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنے مسلمان بھائی کو ایصال ثواب نہیں کر سکتا۔ اس پر تو تمام لوگوں کا حتیٰ کہ خود منکرین کا بھی ہر زمانہ، علاقہ اور شہر میں علماء کی نکیر کے بغیر عمل ہوتا رہا ہے۔

علامہ قرطبی فرماتے ہیں:

و في مسند أبي داود الطيالسي : فوضع على أحدهما نصفاً و على الآخر نصفاً و قال : إنه يهون عليهما ما دام فيهما من بلوتهما شيء ، قالوا : و يستفاد من هذا غرس الأشجار و قراءة القرآن على القبور و إذا خفف عنهم بالأشجار ، فكيف بقراءة الرجل المؤمن القرآن .

التذکرۃ للقرطبی: ص101

ترجمہ: مسند ابی داؤد الطیالسی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاخ کا ایک حصہ ایک قبر پر اور ایک حصہ دوسری قبر پر رکھا اور فرمایا: ان شاخوں میں جب تک تری موجود رہے گی ان کی وجہ سے ان مردوں پر عذاب میں تخفیف ہوتی رہےگی۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے قبروں پر درخت لگانے اور قرآن کی تلاوت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ جب درختوں کے ذریعے عذاب میں تخفیف ہو سکتی ہے تو مومن کے قرآن پڑھنے سے کیوں نہیں ہو سکتی؟!

دلیل نمبر1:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے موقع پر ایک اچھے موٹے تازے سینگوں والے میڈے کی قربانی فرمائی اور اس کو ذبحہ کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

بسم اللہ اللَھم تقبل من محمد واٰل محمد ومن امۃ محمد

ابو داؤد: باب ما یستحب من الضحایا، رقم حدیث 2794

ترجمہ: اے اللہ اس قربانی کو میری طرف سے، میری اولاد کی طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایصال ثواب کرنا درست ہے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری امت کو ایصال ثواب کرنے کے لیے قربانی فرمائی تھی۔

دلیل نمبر2:

عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن ابیہ قال قال ابی اللجلاج ابو خالد یا بنی إذامت فالحد لي لحدا فإذا وضعتني في لحدي فقل : بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سن التراب علي سنا ثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتها فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ذلك.

المعجم الکبیر للطبرانی: ج ص رقم الحدیث

ترجمہ : علاء بن اللجلاج کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت کرتے ہوئے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو میرے لیے لحد بناؤ اور جس وقت مجھے لحد میں رکھو تو ”بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه و سلم“ کہو، پھرمجھ پر مٹی ڈال دو اور اس کے بعد میرے سر کی جانب سورۃ بقرۃ کا ابتدائی اور آخر پڑھو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کہتے ہوئے سنا ہے۔

اس روایت کی سند کے بارےمیں علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:

رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ موثقون

مجمع الزوائد: ج3ص44- باب ما یقول عند ادخال المیت القبر

کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اوراس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

استدلال:

مردے کے سرہانے قرآن کی تلاوت کا مردے کو فائدہ ہوتا ہے، اسی لیے صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی قبر پر سورت بقرہ کی آیات کی تلاوت کی وصیت فرمائی اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مرفوعاً بیان کیا۔

دلیل نمبر3:

حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي ثنا أيوب بن نهيك قال سمعت عطاء بن أبي رباح يقول سمعت ابن عمر: يقول سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( إذا مات أحدكم قلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه بفاتحة الكتاب وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره )

المعجم الکبیر للطبرانی: رقم ا لحدیث، شعب الایمان للبیہقی: فصل فی زیارۃ القبور

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کے مت رکھو بلکہ جلدی سے اسے قبرستان لےجاکر تدفین کرو اور اس کے سرہانے کی جانب سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات اور پاؤں کی جانب آخری آیات تلاوت کرو۔

اس روایت کی سند کے متعلق بحث کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

أخرجه الطبراني بإسناد حسن

فتح الباری: باب السرعۃ بالجنازۃ

کہ امام طبرانی نے اس کو سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

دلیل نمبر4:

روی الامام الحافظ المحدث ابن ابی شَیْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَقْرَؤُونَ عِنْدَ الْمَيِّتِ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ.

مصنف ابن ابی شیبۃ: ج5 ص12 باب رقم الحدیث

ترجمہ: انصار فوت شدہ شخص کے قریب سورۃ البقرۃ پڑھا کرتے تھے۔

اس روایت کے روات کی توثیق پیشِ خدمت ہے:

1: حفص بن غیاث: ثقۃ مامون فقیہ

طبقات الحفاظ: ج ص رقم الترجمۃ

2: مجالد بن سعید: العلامۃ المحدث۔۔۔ و یدرج فی عداد صغار التابعین قال النسائی: ثقۃ و قال مرۃ: لیس بالقوی

سیر اعلام النبلاء: ج6 ص284

3: عامر بن شراحیل الشعبی:کان واللہ کبیر العلم، عظیم الحلم، قدیم السلم، من الاسلام بمکان ، ثقۃ

تہذیب التہذیب: ج3 ص340، ص341

لہذا اس کی روایت حسن درجہ کی ہے۔

دلیل نمبر5:

عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم « من مر على المقابر وقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرة مرة ، ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات »

فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال: ص54، کنز العمال: ج15، ص655

ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :جو شخص قبرستا ن سے گزرے اور 11مرتبہ ”قل ھو اللہ احد“ پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخشے اسے بھی مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیاجائیگا ۔

دلیل نمبر6:

وَخَتَمَ ابْنُ السِّرَاجِ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ خَتْمَةٍ.

رد المحتار لابن عابدین:ج3ص152

ترجمہ: ابن السراج رحمۃ اللہ علیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار مرتبہ قرآن ختم فرمائے ۔

ایصال ثواب غیر مقلد علماء کی نظر میں:

فرقہ اہلحدیث کے وہ علماء جن پر ان کے مذہب کی بنیاد ہے جیسے مثلاً قاضی شوکانی ، ابن النحوی ، محمد بن اسماعیل امیر، ثناء اللہ امر تسری وغیرہ سب اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ ایصال ثواب بالقرآن جائز اور درست ہے اور اس کا انکار کرنا شریعت کے مقصد کے خلاف ہے ۔

1:مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امر تسری:

” ھو الموفق: متاخرین علمائے اہل حدیث میں سے محمد بن اسماعیل نے ”سبل السلام “ میں مسلک حنفیہ کو ارجح بتایا ہے یعنی یہ کہا ہے کہ قرآت ِ قرآن اور تمام عبادات ِ بدنیہ کا ثواب میت کو پہنچنا ازروئے دلیل کے زیادہ قوی ہے اور علامہ شوکانی نے بھی ”نیل الاوطار“ میں اسی کو حق کہا ہے مگر اولاد کے ساتھ خاص کیا یعنی یہ کہا ہے کہ اولاد اپنے والدین کےلیے قرات ِقرآن یا کسی عبادت بد نی کا ثواب پہنچانا چاہے تو جائز ہے کیونکہ اولاد کا تمام عمل خیر مالی ہو یا بدنی او ر بدنی میں قرات قرآن ہو یا نماز یا روزہ یا کچھ ا ور سب والدین کو پہنچتا ہے۔“

فتاویٰ ثنائیہ ج1ص533

امر تسری صاحب اس کے آخر میں اپنی تحقیق پیش یوں پیش کرتے ہیں :

” قرآت ِقرآن سے ایصال ثواب کے متعلق بعد تحقیق یہی فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کر کے ثواب میت کو بخشے تو اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے بشرطیکہ پڑھنے والا خود بغرضِ ثواب بغیر کسی رسم ورواج کی پابندی کے پڑھے۔“

فتاویٰ ثنائیہ ج1ص536

2:قاضی محمد بن علی شوکانی :

لحديث : ( اقرؤوا على موتاكم يس ) وقد تقدم وبالدعاء من الولد لحديث : ( أو ولد صالح يدعو له ) ومن غيره لحديث : ( استغفروا لأخيكم وسلوا له التثبيت فإنه الآن يسئل ) وقد تقدم . ولحديث : ( فضل الدعاء للأخ بظهر الغيب ) ولقوله تعالى { والذين جاؤوا من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان } ولما ثبت من الدعاء للميت عند الزيارة كحديث بريدة عند مسلم وأحمد وابن ماجه قال : ( كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمهم إذا خرجوا إلى المقابر أن يقولوا قائلهم السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية ) وبجميع ما يفعله الولد لوالديه من أعمال البر لحديث : ( ولد الإنسان من سعيه )

نیل الاوطار للشوکانی:

کہ سورۃ یٰسین کا ثواب بھی میت کو ملتا ہے اولاد کی طرف سے بھی اور غیر اولاد کی طرف سے بھی، اس واسطے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے مردوں پر سورۃ یٰسین پڑھا کرو ، اور دعا کا نفع بھی میت کو پہنچتا ہے اولاد کر ے یا کوئی اور ، یہ بھی حدیث سے ثابت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کےلیے مغفرت طلب کر و اور ثبات قدمی کی دعا کرو ، اور باری تعالیٰ کے اس قول کی بنا پر ”والذین جاؤ وامن بعد ھم“ اور جو کارِ خیر اپنے والدین کےلیے کرے سب کا ثواب والدین کو پہنچتا ہے ۔ اس واسطے کہ حدیث میں آیا ہے کہ انسان کی اولاد اس کی سعی (محنت) سے ہے۔

3: علامہ ابن النحوی شرح المنہاج میں لکھتے ہیں:

”ہمارے نزدیک مشہور قول پر قرآت قرآن کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا اور مختار یہ ہے کہ پہنچتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ سے قرآت ِقرآن کے ثواب پہنچنے کا سوال کرے ،(یعنی یہ کہے یا اللہ اس قرآت کا ثواب فلاں میت کو تو پہنچا دے) اور اس طرح پر قرآت کا ثواب پہنچنے کا جزم (یقین) کرنا لائق ہے اس واسطے کو یہ دعا ہے پس جب کہ میت کےلیے ایسی چیز کی دعا کرنا جائز ہے جو داعی کے اختیار میں نہیں ہے تو اس کےلیے ایسی چیز کی دعا کرنا بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا جو آدمی کے اختیار میں ہے اوریہ بات ظاہر ہے دعا کانفع میت کو بالاتفاق پہنچتا ہے اور زندہ کو بھی پہنچتاہے ، نزدیک ہو خواہ دور اور اس بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں بلکہ افضل یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کےلیے غائبانہ دعا کرے۔“

فتاویٰ ثنائیہ ج1ص535،فتاویٰ نذیریہ ج 1ص441تا444

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:مولانا مہتاب حسین سدوزئی