سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کسی زندہ انسان کے لیے جو تندرست بھی ہو عمرہ کیا جاسکتا ہے؟

اسی طرح طواف بھی ایسے شخص کے لیے کیا جاسکتا ہے؟

عبد اللہ

جواب:

عمرہ،طواف یا نفلی حج،ہر شخص چاہے صحت مند ہو یا غیر صحت مند،کی طرف سے ادا کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

( بعبادة ما ) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(له جعل ثوابها لغيره)۔۔۔۔۔۔۔۔۔أَيْ مِنْ الْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ الخ

(رد المختار:ج4ص12، مطلب في إهداء ثواب الأعمال للغير)

کہ ایک انسان عبادت کا ثواب دوسرے شخص کو بخش سکتا ہے۔وہ عبادت چاہے نماز ہو ،روزہ ہو،صدقہ ہو، تلاوت قرآن ہو،ذکر ہو طواف ہو ،عمرہ ہو،یا کوئی اور عبادت ہو۔اسی طرح علامہ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں :

فإن من صَامَ أو صلى أو تَصَدَّقَ وَجَعَلَ ثَوَابَهُ لِغَيْرِهِ من الْأَمْوَاتِ وَالْأَحْيَاءِ جَازَ وَيَصِلُ ثَوَابُهَا إلَيْهِمْ عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ ۔ كَذَا في الْبَدَائِعِ

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق:ج3ص105،باب الحج عن الغیر)

اگرکسی نے روزہ رکھا،نماز پڑھی،یا صدقہ کیا اور اس کا ثواب دوسروں کو بخشے خواہ میت کو بخشے یا زندوں کو بخشے تو یہ جائزہے۔اور ان کا ثواب اہل السنۃ والجماعۃ کے نذدیک ان(زندوں یا میت)کو پہنچتا ہے۔

مجیب:مولانا محمدحسنین